منگلورو 6/اکتوبر(ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں بھگوا تنظیم کے کارکنوں کی غنڈہ گردیاں برابر جاری ہیں اور کسی نہ کسی بہانے سے مسلم نوجوانوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ تازہ واقعہ بنگلورو جانے والی کے ایس آر ٹی سی بس پر پیش آیا ہے جس میں سفر کرتے ہوئے ہندو لڑکی کے ساتھ بیٹھنے پر ہندو شدت پسندوں کی طرف سے مسلم نوجوان کی بری طرح پیٹائی کی گئی ہے۔ یہ واردات تاخیر سے سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تین چار دن قبل بنگلورو جانے والی بس میں سوُلیا سے سوار ہونے والے محمدانیس کو بس پوری طرح کھچا کھچ بھری ہونے کی وجہ سے کنڈکٹر نے ایک ہندو لڑکی کے بازو میں خالی سیٹ پر بیٹھنے کو کہا۔ اتفاق سے وہ ہندو لڑکی بھی سولیا کی رہنے والی تھی، مگر وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔ ہندو لڑکی کے ساتھ مسلم نوجوان کو بیٹھے دیکھ کر کچھ شدت پسند ہندوؤں نے بس کے اندر داخل ہوکرمحمد انیس کے ساتھ جھگڑا اور ہنگامہ کھڑا کردیا۔ لیکن بس میں موجود دیگر مسافروں نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے انہیں یہ باور کروایا کہ دونوں کا ایک ساتھ سیٹ پر بیٹھنا محض اتفاق ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے ہیں۔ تب وہ لوگ بس سے اتر تو گئے لیکن انہوں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کو اس کی اطلاع دے دی۔
پھر بس جب مڈیکیرے کے ایس آر ٹی سی بس اسٹانڈ پہنچی تو وہاں پر ایک دوسرا گروپ بس میں داخل ہوگیا اور اسی بات کو لے کر محمد انیس کو بس سے اتار کر اس پر حملہ کردیا۔ اس ہنگامے کے دوران بس آگے نکل گئی اور محمد انیس کو واپس اپنے گاؤں لوٹ آنا پڑا۔ محمد انیس کی شکایت پر سوُلیا میں حملہ آوروں کے خلاف کیس داخل کیا گیاہے۔اور معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔